‮پاکستان ۔ والدین نے اپنی پندرہ سالہ بیٹی کو مار ڈالا.

Channel: rizwanmunich

916,010

TIP: Right-click and select "Save link as.." to download video

Initializing link download... Initializing link download.....

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تیزاب سے جل کر ہلاک ہونے والی پندرہ سالہ لڑکی والدین نے کہا ہے کہ انھوں نےخاندان کی عزت کی خاطر اپنی بیٹی کا قتل کیا ہے۔
انوشہ ظفر کو گزشتہ ہفتے جنوبی ضلع کوٹلی کے گاؤں سید پور میں تیزاب پھینک کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس نےلڑکی کے والدین کو گرفتار کر لیا ہے۔
کھوئی رٹہ کے تھانے کی حوالات میں بند محمد ظفر اور ان کی اہلیہ ذہین اختر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بیٹی کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا۔
محمد ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے منگل کی شام کو ان کی بیٹی نےگھر کے سامنے ایک نوجوان کی طرف دیکھا تو اس نے بیٹی کو منع کیا تھا کہ وہ راہ چلتے لوگوں کو نہ دیکھا کرے۔' میں نے پہلے بھی اسے (انوشہ) یہ کہا تھا کہ بڑی بیٹی کی وجہ سے ہماری بے عزتی ہوئی تھی اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ذلیل ہوں لیکن اس نے بات نہیں سنی۔'
تریپن سالہ محمد ظفر نے بتایا کہ رات گیارہ بجے کے قریب جب انوشہ پڑھ رہی تھی، تو میں نے اسے اپنے کمرے میں بلوایا۔ 'میں نے اس سے کہا کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور میں نے اس کو دو تھپٹر مارے۔ اتنے میں میری بیوی نے تیزاب کی بوتل اس کے سر پر انڈیل دی۔'
ساتھ ہی حوالات میں قید ان کی بیوی ذہین اختر یہ مانتی ہیں کہ انہوں نے بیٹی کے سر پر خود ہی تیزاب پھینکا اور انھیں ایسا کرنے کے لیے شوہر نے نہیں کہا تھا۔
ذہین اختر نے کہا 'انہوں ( شوہر) نے جب شکایت کی تو مجھے غصہ آیا اور میں نے خود اس کے سر پر تیزاب ڈال دیا۔

والدہ کہتی ہیں کہ اب انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بہت تکلیف میں رہی۔
خود ماں کے دائیں بازو پر بھی تیزاب کے زخم کے نشان ہیں جبکہ لڑکی کے والد کے بازو، ہاتھ اور پاؤں تیزاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں رات ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کو بر وقت ہسپتال نہیں پہنچا سکے۔
اگلے روز جب وہ کوٹلی میں واقع ڈسٹرکٹ ہسپتال میں لے کرگئے تو انوشہ اسی شام کو زخموں کی وجہ ہسپتال میں دم توڑ گئی۔
ہلاک ہونے والی بچی آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی۔
والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی بیٹی پڑھائی میں اچھی تھی اور انہیں کبھی بھی اسکول سے اس کی کوئی شکایت نہیں ملی اور اس کا رویہ بھی ٹھیک تھا۔
اب والدین یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کی موت پر دکھی ہیں اور ان سے غلطی ہوئی ہے اور اب ان کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی شادی شدہ بہن کو اس وقت شبہہ پڑا جب والدین سوگواروں کو میت کا چہرہ دیکھانے سے انکار کر دیا۔
محمد ظفر کے بارہ بچے تھے جو اب گیارہ رہ گئے ہیں
محمد ظفر نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے بارہ بچے ہیں۔ پہلی بیوی سے چار بچے جبکہ ان کے ساتھ گرفتار ہونے والی اہلیہ سے ان کے آٹھ بچے تھے جن میں سے اب ایک اس دنیا میں نہیں رہیں جبکہ ایک بیٹی شادی شدہ ہیں۔
باقی دس بچے جن کی عمریں دو سال سے پندرہ سال کے درمیان ہیں گھر پر ہیں اور فی الوقت ان بچوں کی دیکھ بھال ان کے عزیز کرتے ہیں۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------

Pakistan(Country) Attacks Police Father Daughter acid karachi pakistan pakistani pashto punjabi dance taliban kill pakistani drama pashto drama geo tv aaj kamran khan ke sath Educational Song You boolywood songs urdu bangladesh